حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے 21 ستمبر، عالمی یوم امن کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں کہا: 1952ء سے اقوام متحدہ اس دن کو امن کے عالمی دن کے طور پر منا رہا ہے۔ خود اقوام متحدہ غزہ سے سوڈان، کانگو، ہیٹی، میانمار اور یمن تک گزشتہ ادوار میں پیدا ہونے والے انسانی بحرانوں کا تذکرہ کرچکا ہے، جبکہ حالیہ دنوں میں تہران کے میناب اسکول کو بھی جنگی جرائم کے تناظر میں شامل کیا گیا، مگر افسوس کہ اس کے باوجود سامراجی صدر جس غیر سنجیدہ اور دھمکی آمیز رویے کا مظاہرہ کررہے ہیں، اس سے بڑھ کر امن دشمنی اور کیا ہو سکتی ہے؟
انہوں نے کہا: عالمی یوم امن ایسے موقع پر آیا ہے جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس منعقد ہونے جارہا ہے، مگر اس نمائندہ عالمی ادارے کے لیے جنوبی ایشیا میں اور مشرق وسطیٰ میں مسئلہ فلسطین کا کئی عشروں گزرنے کے باوجود حل نہ ہونا اس کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
علامہ ساجد علی نقوی نے کہا: جنگیں مزید مسائل پیدا کرتی اور انسانی المیوں کو جنم دیتی ہیں۔ طاقت کے استعمال نے انسانیت کو امن کے دل فریب نعروں کے ساتھ تہہ تیغ کیا، مگر افسوس کہ نت نئے حیلے بہانوں اور سازشوں کے بعد مظالم کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اب ایک اور منصوبے کے تحت ناجائز ریاست اسرائیل کا راستہ مزید ہموار کیا جارہا ہے، جس کا راستہ روکنا لازم ہے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے مزید کہا: جب تک عالمی، ریاستی اور معاشرتی سطح پر محکوم عوام کو ان کے بنیادی حقوق فراہم نہیں کیے جاتے، جب تک بھارت اور اسرائیل جیسی غاصب ریاستیں مظلوم کشمیریوں اور فلسطینیوں پر ظلم کے پہاڑ ڈھاتی رہیں گی، دنیا میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکتا۔









آپ کا تبصرہ